بھٹکل 17 فروری (ایس او نیوز) حجاب کو لے کر آج جمعرات پانچویں دن کرناٹک ہائی کورٹ میں تمام عرضی گذاروں کی بحث مکمل ہوئی، جس کے بعد سرکار کاموقف پیش کرنے کے لئے عدالت کی سہ رکنی بینچ نے ایڈوکیٹ جنرل سے کہا تو ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ اُنہیں اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے اس لئے وہ کل جمعہ کو دلائل دیں گے۔ اس پر جسٹس ڈکشت نے کہا کہ یہ اتنا اہم معاملہ ہے جس کے لئے خصوصی بنچ تشکیل دی گئی ہے اور درخواست گزاروں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ ے اپنا کیس پیش کیا ہے۔اس دوران مزاحیہ انداز میں چیف جسٹس نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر آپ گورنمیٹ آرڈر (جی او) میں ترمیم کرنے جارہے ہیں تو آپ کو وقت لگ سکتا ہے۔ بہرحال سرکاری وکیل کی طرف سے وقت طلب کرنے پر عدالتی کاروائی کل جمعہ ڈھائی بجے کے لئے ملتوی کردی گئی۔
آج حسب معمول ڈھائی بجے عدالتی کاروائی شروع ہوئی، مگر ایک گھنٹہ پہلے یعنی چاربجنے سے پہلے ہی کاروائی کل کے لئے ملتوی کردی گئی۔ آج ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 14، 15 اور 25 کے علاوہ، ریاست کی کارروائی آرٹیکل 51(c) - بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی ذمہ داریوں کے احترام کو فروغ دینے کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے اورجواب دہندگان کی کارروائی صرف اور صرف مذہب اور جنس کی بنیاد پر من مانی تفریق پیدا کر رہی ہے، وہ صرف اور صرف مذہبی سرخی # حجاب کی بنیاد پر تعلیم کے حق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔جب کوتوال نے کہا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کو عدالت کے نوٹس میں لارہے ہیں تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ جب کوتوال نے بتایا کہ وہ بھی ایک پیٹیشنر ہے اور ایک سماجی کارکن سمیت آر ٹی آئی کارکن ہے، جس نے کئی PILs میں اس معزز عدالت کی مدد کی ہے توچیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ان کی پیٹیشن کو خارج کردیا۔
ایک اور فریق کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ڈاکٹر ونود کلکرنی نے کہا کہ باحجاب طالبات کو کالج میں داخلہ نہ دئے جانے کی وجہ سے مسلمان لڑکیوں کی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے اور آئین کے دیباچے کے مطابق صحت کی حفاظت ریاست کا فرض ہے، انہوں نے اس موقع پر عبوری ریلیف کے طور پر مسلمان لڑکیوں کو کم ازکم جمعہ کے دن اور رمضان کے مقدس مہینہ میں جو جلد آرہا ہے، حجاب کرنے کا حکم جاری کرنے کی درخواست کی۔آج کی سماعت کے دوران سنئیر ایڈوکیٹ اے ایم ڈار کی عرضی کو بھی چیف جسٹس نے مکمل نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے خارج کردیا۔ کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ ساجن پووّیا نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایڈوکیٹ جنرل کے دلائل کی سماعت کے بعد اپنی بات رکھنا چاہیں گے۔ سنئیر ایڈوکیٹ ایس ایس ناگانند نے بھی یہی کہا کہ وہ بھی ایڈوکیٹ جنرل کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ہی بات کریں گے۔ اس طرح وقت سے پہلے آج کی کاروائی مکمل ہوئی ۔ اب جمعہ ڈھائی بجے عدالت کی کاروائی شروع ہوگی۔